Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

وہ تو نہیں کہ اودھم رہتا تھا آشیاں تک

وہ تو نہیں کہ اودھم رہتا تھا آشیاں تک آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے آسماں تک لبریز جلوہ اس کا سارا جہاں ہے یعنی ساری ہے وہ حقیقت جاوے نظر جہاں تک ہجراں کی سختیوں سے پتھر دل و جگر ہیں صبر اس کی عاشقی میں کوئی کرے کہاں تک سوداے عاشقی میں نقصاں ہے جی کا لیکن ہم راضی ہورہے ہیں اپنے زیان جاں تک وا ماندہ نقش پا سے یک دشت ہم ہیں بیکس دشوار ہے پہنچنا اب اپنا کارواں تک جی مارتے ہیں دلبر عاشق کا اس خطر سے حرف وفا نہ آیا اپنی کبھو زباں تک دل دھڑکے ہے جو بجلی چمکے ہے سوے گلشن پہنچے مبادا میری خاشاک آشیاں تک دیواروں سے بھی مارا پتھروں سے پھوڑ ڈالا پہنچا نہ سر ہمارا حیف اس کے آستاں تک یہ تنگی و نزاکت اس رنگ سے کہاں ہے گل برگ و غنچے پہنچیں کب ان لب و دہاں تک ان جلتی ہڈیوں پر ہرگز ہما نہ بیٹھے پہنچی ہے عشق کی تب اے میر استخواں تک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR