Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جب کہتے تھے تب تم نے تو گوش ہوش نہ کھولے ٹک

جب کہتے تھے تب تم نے تو گوش ہوش نہ کھولے ٹک چپکے چپکے کسو کو چاہا پوچھا بھی تو نہ بولے ٹک اب جو چھاتی جلی فی الواقع لطف نہیں ہے شکایت کا صبر کرو کیا ہوتا ہے یوں پھوڑے دل کے پھپھولے ٹک نالہ کشی میں مرغ چمن بکتا ہے پر ہم تب جانیں نعرہ زناں جب صبح سے آ کے ساتھ ہمارے بولے ٹک اس کی قامت موزوں سے کیا کوئی سرو برابر ہو ناموزوں ہی نکلے گا سنجیدہ کوئی جو بولے ٹک آنکھیں جو کھولیں سوتے سے تو حال ہی کہتے مجھ کو کہا ساری رات کہانی کہی ہے تو بھی اٹھ کر سولے ٹک مشکل ہے دلداری عاشق وہ برسوں بیتاب رہے بے طاقت اس دل کو میرے ہاتھ میں اپنے تو لے ٹک آنکھیں کھولیں حال کے کہتے دیر ہوئی ہے بس یعنی ساری رات کہانی کہی ہے میر اب چل کر سولے ٹک ایسے درد دل کرنے کو میر کہاں سے جگر آوے گرم سخن لوگوں میں ہو کوئی بات کرے تو رولے ٹک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR