Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گل کیا جسے کہیں کہ گلے کا تو ہار کر

گل کیا جسے کہیں کہ گلے کا تو ہار کر ہم پھینک دیں اسے ترے منھ پر نثار کر آغوشیں جیسے موجیں الٰہی کشادہ ہیں دریاے حسن اس کا کہیں ہم کنار کر یاں چلتے دیر کچھ نہیں لگتی ہے میری جاں رخت سفر کو اپنے شتابی سے بار کر مختار رونے ہنسنے میں تجھ کو اگر کریں تو اختیار گریۂ بے اختیار کر مشق ستم ہوئی ہے بہت صاف یار کی پشتے لگائے ان نے جوانوں کو مار کر صیادی میں علوے تقدس تو اس کا دیکھ روح القدس کو مار رکھا ہے شکار کر بہنے لگی ہے تیغ کی جدول تو تیری تیز دشمن کا کام وار میں پہلے ہی پار کر میں بیقرار خاک میں کب تک ملا کروں کچھ ملنے کا نہ ملنے کا تو بھی قرار کر میں رفتہ میر مجلس تصویر کا گیا تو بیٹھا میرا حشر تک اب انتظار کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR