Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آئے ہو گھر سے اٹھ کر میرے مکاں کے اوپر

آئے ہو گھر سے اٹھ کر میرے مکاں کے اوپر کی تم نے مہربانی بے خانماں کے اوپر پھولوں سے اٹھ نگاہیں مکھڑے پہ اس کے ٹھہریں وہ گل فروش کا جو آیا دکاں کے اوپر برسات اب کے گذری خوف و خطر میں ساری چشمک زناں رہی ہے برق آشیاں کے اوپر رخسار سا کسو کے کاہے کو ہے فروزاں ہر چند ماہ تاباں ہے آسماں کے اوپر بے سدھ پڑا رہوں ہوں بستر پہ رات دن میں کیا آفت آگئی ہے اس نیم جاں کے اوپر عشق و ہوس میں کچھ تو آخر تمیز ہو گی آئی طبیعت اس کی گر امتحاں کے اوپر الفت کی کلفتوں میں معلوم ہے ہوئی وہ تھا اعتماد کلی تاب و تواں کے اوپر محو دعا تھا اکثر غیرت سے لیک گاہے آیا نہ نام اس کا میری زباں کے اوپر وہ جان و دل کی خواہش آیا نہیں جہاں میں آئی ہے اک قیامت اہل جہاں کے اوپر کیا لوگ ہیں محباں سوداے عاشقی میں اغماض کرتے ہیں سب جی کے زیاں کے اوپر حیرت سے اس کے روکی چپ لگ گئی ہے ایسی گویا کہ مہر کی ہے میرے دہاں کے اوپر جو راہ دوستی میں اے میر مرگئے ہیں سر دیں گے لوگ ان کے پا کے نشاں کے اوپر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR