Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل یہی ہے جس کو دل کہتے ہیں اس عالم کے بیچ

دل یہی ہے جس کو دل کہتے ہیں اس عالم کے بیچ کاش یہ آفت نہ ہوتی قالب آدم کے بیچ چھاتی کٹتی سنگ ہی سے دل کے جانے میں نہیں نعل سینوں پر جڑے جاتے ہیں اس ماتم کے بیچ نقشہ اس کا مردم دیدہ میں میرے نقش ہے یعنی صورت اس ہی کی پھرتی ہے چشم نم کے بیچ شاد وے جو اب جواں تازہ ہوئے ہیں شہر میں دل زدہ ہم شیب میں رہتے ہیں اپنے غم کے بیچ دل نہ ایسا کر کہ پشت چشم وہ نازک کرے سو بلائیں ہیں یہاں ان ابروؤں کے خم کے بیچ حد سے افزوں اس گلی میں شور ہے عشاق کا کون سنتا ہے کسو کی بات اس اودھم کے بیچ رونق آبادی ملک سخن ہے اس تلک ہوں ہزاروں دم الٰہی میر کے اک دم کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR