Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جو کوئی اس بے وفا سے دل لگاتا ہے بہت

جو کوئی اس بے وفا سے دل لگاتا ہے بہت وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت اس کے سونے سے بدن سے کس قدر چسپاں ہے ہائے جامہ کبریتی کسو کا جی جلاتا ہے بہت کیا پس از چندے مری آوارگی منظور ہے مو پریشاں اب جو شب مجھ پاس آتا ہے بہت چاہ میں بھی بیشتر جانے سے کم ہوتا ہے وقر اس لیے جاتا ہوں تب جب وہ بلاتا ہے بہت گرچہ کم جاتا ہوں پر دل پر نہیں کچھ اختیار وہ کجی سے سیدھیاں مجھ کو سناتا ہے بہت بھول جاوے گا سخن پردازی اس کے سامنے شاعری سے جو کوئی باتیں بناتا ہے بہت بامزہ معشوق کیا کم ہیں پر اس کو کیا کروں ناز و انداز اس ہی کا جو مجھ کو بھاتا ہے بہت وہ نہیں ہجراں میں اس بن خواب خوش آوے مجھے اب خیال اس کی طرف ہر لحظہ جاتا ہے بہت کیا کروں کہنے لگا ایدھر نہ آنے پائے وہ بد کہیں ہنگامہ آرا میر آتا ہے بہت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR