Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب

اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب لگ نہیں پڑتے ہیں لے کر ہاتھ میں شمشیر تیز بے کسوں کے قتل میں اتنا نہیں اصرار خوب آخر ان خوباں نے عاشق جان کر مارا مجھے چاہ کا اپنی نہ کرنا ان سے تھا اظہار خوب آج کل سے مجھ کو بیتابی و بدحالی ہے کیا مجھ مریض عشق کے کب سے نہ تھے آثار خوب کیا کریمی اس کی کہیے جنت دربستہ دی ورنہ مفلس غم زدوں کے کچھ نہ تھے کردار خوب مخترع جور و ستم میں بھی ہوا وہ نوجواں ظلم تب کرتا ہے جب ہو کوئی منت دار خوب دہر میں پستی بلندی برسوں تک دیکھی ہے میں جب لٹا پامالی سے میں تب ہوا ہموار خوب کیا کسو سے آشنائی کی رکھے کوئی امید کم پہنچتا ہے بہم دنیا میں یارو یار خوب کہتے تھے افعی کے سے اے میر مت کھا پیچ و تاب آخر اس کوچے میں جا کھائی نہ تو نے مار خوب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR