Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مارے ہی ڈالے ہے جس کا زندگی میں اضطراب

مارے ہی ڈالے ہے جس کا زندگی میں اضطراب ساتھ میرے دل گڑا تو آچکا مرنے کا خواب ٹک ٹھہرتا بھی تو کہتے تھا کسو بجلی کی تاب یا کہ نکہت گل کی تھا آیا گیا عہد شباب کی نماز صبح کو کھوکر نماز اشراق کی ہو گیا مجھ پر ستم اچٹا نہ ٹک مستی میں خواب دیکھنا منھ یار کا اس وجہ سے ہوتا نہیں یا الٰہی دے زمانے سے اٹھا رسم نقاب ضعف ہے اس کے مرض اور اس کے غم سے الغرض دل بدن میں آدمی کے ایک ہے خانہ خراب یار میں ہم میں پڑا پردہ جو ہے ہستی ہے یہ بیچ سے اٹھ جائے تو ہووے ابھی رفع حجاب صورت دیوار سے مدت کھڑے در پر رہے پر کبھو صحبت میں اس کی ہم ہوئے نہ باریاب مے سے توبہ کرتے ہی معقول اگر ہم جانتے ہم پہ شیخ شہر برسوں سے کرے ہے احتساب جمع تھے خوباں بہت لیکن پسند اس کو کیا کیا غلط میں نے کیا اے میر وقت انتخاب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR