Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہے عشق میں جو حال بتر تو ہے کیا عجب

ہے عشق میں جو حال بتر تو ہے کیا عجب مر جائے کوئی خستہ جگر تو ہے کیا عجب لے جا کے نامے کتنے کبوتر ہوئے ہیں ذبح اڑتی سی ہم کو آوے خبر تو ہے کیا عجب شبہاے تار و تیرہ زمانے میں دن ہوئیں شب ہجر کی بھی ہووے سحر تو ہے کیا عجب جیسے ہے رخنہ رخنہ یہ چرخ اثیر سب اس آہ کا ہو اس میں اثر تو ہے کیا عجب جاتی ہے چشم شوخ کسی کی ہزار جا آوے ادھر بھی اس کی نظر تو ہے کیا عجب لغزش ملک سے ہووے لچک اس کمر کی دیکھ عاشق سے جو بندھے نہ کمر تو ہے کیا عجب ترک وطن کیا ہے عزیزوں نے چاہ میں کر جائے کوئی رفتہ سفر تو ہے کیا عجب برسوں سے ہاتھ مارتے ہیں سر پہ اس بغیر ہووے بھی ہم سے دست بسر تو ہے کیا عجب معلوم سودمندی عشاق عشق میں پہنچے ہے اس سے ہم کو ضرر تو ہے کیا عجب گھر بار میں لٹا کے گیا گھر سے بھی نکل اب آوے وہ کبھو مرے گھر تو ہے کیا عجب ملتی نہیں ہے آنکھ اس آئینہ رو کی میر وہ دل جو لے کے جاوے مکر تو ہے کیا عجب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR