Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہو کوئی اس بے وفا دلدار سے کیا آشنا

ہو کوئی اس بے وفا دلدار سے کیا آشنا آشنا رہ برسوں جو اک دم میں ہو ناآشنا قدر جانو کچھ ہماری ورنہ پچھتاؤ گے تم پھر نہیں ملنے کا تم کو کوئی ہم سا آشنا باغ کو بے لالہ و گل دیکھ کہتے تھے طیور جھڑ گئے پت جھڑ میں اب کے ہائے کیا کیا آشنا اب تو تو لڑکا نہیں عشق و ہوس میں کر تمیز آشنا سے فرق ہوتا ہے بہت تا آشنا ملتے ملتے منھ چھپانا بھی لطیفہ ہے نیا آشنائی یا نہ کریے ہوجیے یا آشنا تھا جنوں کا لطف مجنوں سے سو دنیا سے گیا مغفرت ہو اس کو وحشی ہم سے بھی تھا آشنا اب جو ہاتھ آئے ہیں ہم مت مفت کھو دیجو ہمیں پھر نہ ہو گا تم کو ایسا کوئی پیدا آشنا کیسا ہی پانی ہو اس کو پیری میں جانا ہے پیر تھا جوانی میں مگر تو میر دانا آشنا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR