Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

زمانہ ہجر کا آسان کیا بسر آیا

زمانہ ہجر کا آسان کیا بسر آیا ہزار مرتبہ منھ تک مرے جگر آیا رہیں جو منتظر آنکھیں غبار لائیں ولے وہ انتظارکشوں کو نہ ٹک نظر آیا ہزار طرح سے آوے گھڑی جدائی میں ملاپ جس سے ہو ایسا نہ یک ہنر آیا ملا جو عشق کے جنگل میں خضر میں نے کہا کہ خوف شیر ہے مخدوم یاں کدھر آیا یہ لہر آئی گئی روز کالے پانی تک محیط اس مرے رونے کو دیکھ تر آیا نثار کیا کریں ہم خانماں خراب اس پر کہ گھر لٹا چکے جب یار اپنے گھر آیا نہ روؤں کیونکے علی الاتصال اس بن میں کہ جی کے رندھنے سے جوں ابر دل بھی بھر آیا جوان مارے ہیں بے ڈھنگی ہی سے ان نے بہت ستم کی مشق کی پر خون اسے نہ کرآیا لچک کمر کی جو یاد آئی اس کی بہ آوے کہ پانی میر کے اشکوں کا تا کمر آیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR