Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

بلبل کا شور سن کے نہ مجھ سے رہا گیا

بلبل کا شور سن کے نہ مجھ سے رہا گیا میں بے دماغ باغ سے اٹھ کر چلا گیا لوگوں نے پائی راکھ کی ڈھیری مری جگہ اک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا چلا گیا چہرے پہ بال بکھرے رہے سب شب وصال یعنی کہ بے مروتی سے منھ چھپا گیا چلنا ہوا تو قافلۂ روزگار سے میں جوں صدا جرس کی اکیلا جدا گیا کیا بات رہ گئی ہے مرے اشتیاق سے رقعے کے لکھتے لکھتے ترسل لکھا گیا سب زخم صدر ان نے نمک بند خود کیے صحبت جو بگڑی اپنے میں سارا مزہ گیا سارے حواس میرے پریشاں ہیں عشق میں اس راہ میں یہ قافلہ سارا لٹا گیا بادل گرج گرج کے سناتا ہے یعنی یاں نوبت سے اپنی ہر کوئی نوبت بجا گیا وے محو ناز ہی رہے آئے نہ اس طرف میں منتظر تو جی سے گیا ان کا کیا گیا دل دے کے جان میر نے پایان کار دی یہ سادہ لوح طرح نئی دل لگا گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR