Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جس رفتنی کو عشق کا آزار ہو گیا

جس رفتنی کو عشق کا آزار ہو گیا دوچار دن میں برسوں کا بیمار ہو گیا نسبت بہت گناہوں کی میری طرف ہوئی ناکردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا حیرت زدہ میں عشق کے کاموں کا یار کے دروازے پر کھڑے کھڑے دیوار ہو گیا پھیلے شگاف سینے کے اطراف درد سے کوچہ ہر ایک زخم کا بازار ہو گیا بازار میں جہان کے ہے حسن کیا متاع سو جی سے جس نے دیکھا خریدار ہو گیا دل لے کے میری جان کا دشمن ہوا ندان جس بے وفا سے اپنے تئیں پیار ہو گیا عاشق کو اس کی تیغ سے ہے لاگ کھنچتے ہی یہ کشتنی بھی مرنے کو تیار ہو گیا مرتے موا رہا نہ ہوا تنگ ہی رہا پھندے میں عشق کے جو گرفتار ہو گیا کیا جرم تھا کسو پہ نہ معلوم کچھ ہوا جو میر کشت و خوں کا سزاوار ہو گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR