Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

میں رنج عشق کھینچے بہت ناتواں ہوا

میں رنج عشق کھینچے بہت ناتواں ہوا مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا بستر سے اپنے اٹھ نہ سکا شب ہزار حیف بیمار عشق چار ہی دن میں گراں ہوا شاید کہ دل تڑپنے سے زخم دروں پھٹا خونناب میری آنکھوں سے منھ پر رواں ہوا غیر از خدا کی ذات مرے گھر میں کچھ نہیں یعنی کہ اب مکان مرا لامکاں ہوا مستوں میں اس کی کیسی تعین سے ہے نشست شیشہ ہوا نہ کیف کا پیر مغاں ہوا سائے میں تاک کے مجھے رکھا اسیر کر صیاد کے کرم سے قفس آشیاں ہوا ہم نے نہ دیکھا اس کو سو نقصان جاں کیا ان نے جو اک نگاہ کی اس کا زیاں ہوا ٹک رکھ لے ہاتھ تن میں نہیں اور جاے زخم بس میرے دل کا یار جی اب امتحاں ہوا وے تو کھڑے کھڑے مرے گھر آ کے پھر گئے میں بے دیار و بیدل و بے خانماں ہوا گردش نے آسماں کی عجائب کیا سلوک پیر کبیر جب میں ہوا وہ جواں ہوا مرغ چمن کی نالہ کشی کچھ خنک سی تھی میں آگ دی چمن کو جو گرم فغاں ہوا دو پھول لاکے پھینک دیے میری گور پر یوں خاک میں ملا کے مجھے مہرباں ہوا سر کھینچا دود دل نے جہاں تیرہ ہو گیا دم بھر میں صبح زیر فلک کیا سماں ہوا کہتے ہیں میر سے کہیں اوباش لڑ گئے ہنگامہ ان سے ایسا الٰہی کہاں ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR