Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا سو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا گلشن کے طائروں نے کیا بے مروتی کی یک برگ گل قفس میں ہم تک نہ کوئی لایا بے ہیچ اس کا غصہ یارو بلاے جاں ہے ہرگز منا نہ ہم سے بہتیرا ہی منایا قد بلند اگرچہ بے لطف بھی نہیں ہے سرو چمن میں لیکن انداز وہ نہ پایا انگڑاتے خوبرو یاں حسرت سے پیش و پس ہیں اینڈا پھرے ہے ہر سو جب اس پری کا سایا نقشہ عجب ہے اس کا نقاش نے ازل کے مطبوع ایسا چہرہ کوئی نہ پھر بنایا شب کو نشے میں باہم تھی گفتگوے درہم اس مست نے جھنکایا یعنی بہت چھکایا دل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھا بخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا عاشق جہاں ہوا ہے بے ڈھنگیاں ہی کی ہیں اس میر بے خرد نے کب ڈھب سے دل لگایا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR