Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا بے دماغی سے با خطاب رہا ہو کے بے پردہ ملتفت بھی ہوا ناکسی سے ہمیں حجاب رہا نہ اٹھا لطف کچھ جوانی کا کم بہت موسم شباب رہا کارواں ہائے صبح ہوتے گیا میں ستم دیدہ محو خواب رہا ہجر میں جی ڈھہا گرے ہی رہے ضعف سے حال دل خراب رہا گھر سے آئے گلی میں سو باری یار بن دیر اضطراب رہا ہم سے سلجھے نہ اس کے الجھے بال جان کو اپنی پیچ و تاب رہا پردے میں کام یاں ہوا آخر واں سدا چہرے پر نقاب رہا سوزش سینہ اپنے ساتھ گئی خاک میں بھی ہمیں عذاب رہا حیف ہے میر کی جناب سے میاں ہم کو ان سمجھے اجتناب رہا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR