Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

فلک نے پیس کر سرمہ بنایا

فلک نے پیس کر سرمہ بنایا نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا زمانے میں مرے شور جنوں نے قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا بلا تھی کوفت کچھ سوز جگر سے ہمیں تو کوٹ کوٹ ان نے جلایا تمامی عمر جس کی جستجو کی اسے پاس اپنے اک دم بھی نہ پایا نہ تھی بیگانگی معلوم اس کی نہ سمجھے ہم اسی سے دل لگایا قریب دیر خضر آیا تھا لیکن ہمیں رستہ نہ کعبے کا بتایا حق صحبت نہ طیروں کو رہا یاد کوئی دو پھول اسیروں تک نہ لایا غرور حسن اس کا دس گنا ہے ہمارا عشق اسے کن نے جتایا عجب نقشہ ہے نقاش ازل نے کوئی ایسا نہ چہرہ پھر بنایا علاقہ میر تھا خنجر سے اس کے ندان اپنا گلا ہم نے کٹایا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR