گڑیا کی شادی
علیزہ ایک بہت پیاری بچی ہے۔ اس کے پاس ایک گڑیا ہے۔ دیکھنے کے لائق۔ علیزہ اپنی گڑیا سے بہت پیار کرتی ہے۔ ایک دن اس نے سوچا کیوں نہ میں اپنی گڑیا کی شادی کردوں۔ کل جمعہ ہے۔ جمعے کا دن اچھا رہےگا۔ سب سے پہلے علیزہ اپنی آپا کے پاس گئی اور بولی:
’’آپا! کل میری گڑیا کی شادی ہے۔ آپ ضرور آئیے۔‘‘
آپا نے کہا: ’’میں ضرور آتی مگر کل تو مجھے سچ مچ ایک شادی میں جانا ہے۔‘‘
علیزہ کے دونوں بھائی علی اور باچھو جب اسکول سے آئے تو علیزہ نے ان سے کہا: ’’کل میری گڑیا کی شادی ہے۔ آپ دونوں ضرور آئیے۔‘‘
دونوں خوب ہنسے۔ بولے: ’’بھئی، کل تو ہم کرکٹ کھیلنے جا رہے ہیں۔‘‘
علیزہ نے اپنی سہیلیوں ربیعہ اور مریم سے کہا۔ وہ دونوں جمعہ کو اپنی خالہ کے گھر جا رہی تھیں۔
پھر علیزہ نے سوچا، چھوٹے شایان کو بلاؤں۔ شایان علیزہ کا خالہ زاد بھائی تھا اور دوست بھی تھا۔ مگر شایان اس وقت گھر پر نہیں تھا۔
اب تو علیزہ بہت پریشان ہوئی۔ مگر کیا کرتی۔ صبح صبح اٹھ بیٹھی۔ اپنے تمام کھلونے سجائے۔ گڑیا کو اچھے اچھے کپڑے پہنائے اور خود ہی اپنی گڑیا کی شادی میں شامل ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتی ہے کہ اس کی گڑیا کی شادی میں بہت سے مہمان آ رہے ہیں۔ بھالو، طوطا، گرگٹ، جھینگر اور جگنو میاں۔ یہ سب تحفے بھی لائے تھے۔ بھالو کے خالو بھی آئے ہوئے تھے۔ وہ ایک بہت خوبصورت صندوق لائے تھے۔ گرگٹ بندے لایا تھا جو ہلانے سے چمکتے تھے اور تو اور جھینگر گڑیا کے لئے دو شالہ لایا تھا اور طوطا وہ اپنا پوتا ساتھ لایا تھا اور گڑیا کے لئے ایک چھوٹی سی بندوق لایا تھا۔ رہے جگنو میاں، تو ان کی کیا بات تھی۔ وہ چمک چمک کر گڑیا کے چاروں طرف ناچ رہے تھے اور گا رہے تھے۔
علیزہ بہت خوش ہوئی۔ ساری اداسی غائب ہو گئی۔ کیسی اچھی شادی ہو رہی تھی۔ یکایک دروازہ زور سے کھلا۔ علیزہ کی آنکھ کھل گئی۔ آپا، دونوں بھائی، ربیعہ مریم سب لوگ آ گئے تھے۔ ان سب کے ہاتھوں میں اپنے اپنے تحفے تھے۔ آپا نے کہا:
’’دیکھو، میں ان سب کو لے کر آئی ہوں جن کو تم بلانا چاہتی تھیں۔ تھوڑی دیر ضرور ہو گئی۔ یہ لو میں تمہاری گڑیا کے لئے صندوق لائی ہوں۔‘‘
بھیا بولے: ’’اور میں بندوق، یہ چھوٹی سی۔‘‘
چھوٹے بھائی نے کہا:’’یہ لو بندے، ہلانے سے چمکتے ہیں۔‘‘
ربیعہ اور مریم بولیں: ہم تمہاری گڑیا کے لئے دوشالہ لائے ہیں۔‘‘ اتنے میں شایان بھاگتا ہوا آیا اور اس کے پاس ایک چھوٹی سی لالٹین تھی وہ گڑیا کے چاروں طرف ناچ ناچ کر گانے لگا:
علیزہ نے گڑیا کی شادی رچائی
شادی کی دعوت سب کو کھلائی
بھالو کا خالو صندوق لایا
طوطے کا پوتا بندوق لایا
جھینگر کی اماں نے بھیجا دوشالہ
بندے لے آیا گرگٹ بے چارہ
علیزہ نے گڑیا کی شادی رچائی
علیزہ ایک بہت پیاری بچی ہے۔ اس کے پاس ایک گڑیا ہے۔ دیکھنے کے لائق۔ علیزہ اپنی گڑیا سے بہت پیار کرتی ہے۔ ایک دن اس نے سوچا کیوں نہ میں اپنی گڑیا کی شادی کردوں۔ کل جمعہ ہے۔ جمعے کا دن اچھا رہےگا۔ سب سے پہلے علیزہ اپنی آپا کے پاس گئی اور بولی:
’’آپا! کل میری گڑیا کی شادی ہے۔ آپ ضرور آئیے۔‘‘
آپا نے کہا: ’’میں ضرور آتی مگر کل تو مجھے سچ مچ ایک شادی میں جانا ہے۔‘‘
علیزہ کے دونوں بھائی علی اور باچھو جب اسکول سے آئے تو علیزہ نے ان سے کہا: ’’کل میری گڑیا کی شادی ہے۔ آپ دونوں ضرور آئیے۔‘‘
دونوں خوب ہنسے۔ بولے: ’’بھئی، کل تو ہم کرکٹ کھیلنے جا رہے ہیں۔‘‘
علیزہ نے اپنی سہیلیوں ربیعہ اور مریم سے کہا۔ وہ دونوں جمعہ کو اپنی خالہ کے گھر جا رہی تھیں۔
پھر علیزہ نے سوچا، چھوٹے شایان کو بلاؤں۔ شایان علیزہ کا خالہ زاد بھائی تھا اور دوست بھی تھا۔ مگر شایان اس وقت گھر پر نہیں تھا۔
اب تو علیزہ بہت پریشان ہوئی۔ مگر کیا کرتی۔ صبح صبح اٹھ بیٹھی۔ اپنے تمام کھلونے سجائے۔ گڑیا کو اچھے اچھے کپڑے پہنائے اور خود ہی اپنی گڑیا کی شادی میں شامل ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتی ہے کہ اس کی گڑیا کی شادی میں بہت سے مہمان آ رہے ہیں۔ بھالو، طوطا، گرگٹ، جھینگر اور جگنو میاں۔ یہ سب تحفے بھی لائے تھے۔ بھالو کے خالو بھی آئے ہوئے تھے۔ وہ ایک بہت خوبصورت صندوق لائے تھے۔ گرگٹ بندے لایا تھا جو ہلانے سے چمکتے تھے اور تو اور جھینگر گڑیا کے لئے دو شالہ لایا تھا اور طوطا وہ اپنا پوتا ساتھ لایا تھا اور گڑیا کے لئے ایک چھوٹی سی بندوق لایا تھا۔ رہے جگنو میاں، تو ان کی کیا بات تھی۔ وہ چمک چمک کر گڑیا کے چاروں طرف ناچ رہے تھے اور گا رہے تھے۔
علیزہ بہت خوش ہوئی۔ ساری اداسی غائب ہو گئی۔ کیسی اچھی شادی ہو رہی تھی۔ یکایک دروازہ زور سے کھلا۔ علیزہ کی آنکھ کھل گئی۔ آپا، دونوں بھائی، ربیعہ مریم سب لوگ آ گئے تھے۔ ان سب کے ہاتھوں میں اپنے اپنے تحفے تھے۔ آپا نے کہا:
’’دیکھو، میں ان سب کو لے کر آئی ہوں جن کو تم بلانا چاہتی تھیں۔ تھوڑی دیر ضرور ہو گئی۔ یہ لو میں تمہاری گڑیا کے لئے صندوق لائی ہوں۔‘‘
بھیا بولے: ’’اور میں بندوق، یہ چھوٹی سی۔‘‘
چھوٹے بھائی نے کہا:’’یہ لو بندے، ہلانے سے چمکتے ہیں۔‘‘
ربیعہ اور مریم بولیں: ہم تمہاری گڑیا کے لئے دوشالہ لائے ہیں۔‘‘ اتنے میں شایان بھاگتا ہوا آیا اور اس کے پاس ایک چھوٹی سی لالٹین تھی وہ گڑیا کے چاروں طرف ناچ ناچ کر گانے لگا:
علیزہ نے گڑیا کی شادی رچائی
شادی کی دعوت سب کو کھلائی
بھالو کا خالو صندوق لایا
طوطے کا پوتا بندوق لایا
جھینگر کی اماں نے بھیجا دوشالہ
بندے لے آیا گرگٹ بے چارہ
علیزہ نے گڑیا کی شادی رچائی
مصنفہ: زہرا نگاہ